پیر 2 نومبر 2026 - 14:27
قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

حوزہ/ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں مدرسہ سلیمانیہ کے سابق ممتاز عالم اور مترجم قرآن حافظ مولانا فرمان علی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ایک عظیم الشان سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے علماء، دانشوروں اور دینی و علمی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی تاریخ پر مشتمل ضخیم کتاب ’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کا بھی باوقار انداز میں اجراء عمل میں آیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں مدرسہ سلیمانیہ کے سابق ممتاز عالم اور مترجم قرآن حافظ مولانا فرمان علی کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ایک عظیم الشان سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے علماء، دانشوروں اور دینی و علمی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی تاریخ پر مشتمل ضخیم کتاب ’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کا بھی باوقار انداز میں اجراء عمل میں آیا۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

یہ سمپوزیم یکم نومبر 2026ء، بروز اتوار، صبح 10 بجے مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ میں منعقد ہوا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی اور مقررِ خصوصی ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ، حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی تھے۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

اپنے خطاب میں ڈاکٹر حکیم الٰہی نے قرآن کریم کی عالمگیر حیثیت اور انسان سازی میں اس کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، برکت اور روشنی کا پیغام ہے۔ یہ الٰہی کتاب زندگی کے ہر شعبے اور ہر مرحلے میں انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ قرآن دلوں کے سکون، ذہنوں کے اطمینان اور باطنی و ظاہری بیماریوں کے لیے شفا اور رحمت کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا میزان ہے جو حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ قرآن کا پیغام کسی خاص قوم، ملک، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے رہنما ہے۔

انہوں نے حافظ مولانا فرمان علی کی علمی، دینی اور ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک ممتاز عالم دین، بہترین خطیب اور مقرر ہونے کے ساتھ علم طب میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ تاہم اردو ترجمہ قرآن کی وجہ سے ان کی علمی شناخت کو ایک امتیازی مقام حاصل ہوا۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

ڈاکٹر حکیم الٰہی نے ابلاغِ قرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کو عام کرنا اور اس کا پیغام لوگوں تک پہنچانا رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بنیادی فریضہ تھا، جس کی آپ نے امت کو بھی تاکید فرمائی۔ اسی سلسلے میں آپ کا مشہور فرمان ہے: ’’میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

انہوں نے حوزات علمیہ اور دینی مدارس کے اساتذہ، طلباء اور علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے حفظ اور ترجمے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی زبان میں قرآن کے قدیم تراجم کو کافی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ہر سال نئے تراجم اور نئی تشریحات سامنے آنی چاہئیں، کیونکہ وقت کے ساتھ زبان و ادب میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اور ہر دور کے تقاضوں کے مطابق قرآن کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

قرآن کریم کے تراجم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف زمانوں میں متعدد زبانوں میں قرآن کے تراجم کیے گئے ہیں۔ فارسی زبان میں حضرت سلمان فارسیؓ کی جانب سے ابتدائی دور میں ترجمے کا اہتمام کیا گیا۔ صدر اسلام میں جب بعض غیر عرب مسلمانوں نے نماز میں پڑھی جانے والی سورۂ حمد کا مفہوم سمجھنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت سلمان فارسیؓ نے ان کے لیے اس کا فارسی ترجمہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارسی زبان میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب ’’فتح الرحمٰن‘‘ قرآن کے اہم تراجم میں شمار ہوتی ہے۔ اردو میں شاہ رفیع الدین دہلوی نے 1786ء میں لفظی ترجمہ کیا، جبکہ شاہ عبدالقادر دہلوی نے 1790ء میں بامحاورہ ترجمہ پیش کیا، جو ’’موضح القرآن‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ڈاکٹر حکیم الٰہی نے سوال اٹھایا کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جن کی مادری زبان عربی نہیں، تو وہ قرآن میں غور و فکر اور تدبر کیسے کریں گے؟ اس لیے مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے اور اس کے پیغام کی ترویج انتہائی ضروری ہے۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

اپنے خطاب کے آخری حصے میں انہوں نے ایام عزائے فاطمیہ کی مناسبت سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب کو قرآن، احادیث اور تاریخی شواہد کی روشنی میں بیان کیا۔ انہوں نے آپ کی سیرت، مقام و منزلت اور واقعۂ شہادت کو دردناک اور مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔

ڈاکٹر حکیم الٰہی کی علمی و تحقیقی تقریر کا اردو ترجمہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید تقی حیدر نقوی، ایران کلچر ہاؤس دہلی نے پیش کیا۔

سمپوزیم کی دیگر سرگرمیاں اور مقررین

پروگرام کا آغاز حافظ محمد عمیر، سابق مدرس مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جبکہ رسول احمد نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کی۔ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کے موجودہ انچارج پرنسپل مولانا ثمر عباس گوپالپوری نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔

حجۃ الاسلام مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر دہلی کی سرگرمیوں اور علمی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہوئے کتاب ’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کی تالیف، تدوین، طباعت اور اشاعت کے مراحل پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر حجۃ الاسلام مولانا سید مراد رضا، صدر محبان ام الائمہ تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ پٹنہ؛ حجۃ الاسلام مولانا شمشاد علی، سابق پرنسپل مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ؛ حجۃ الاسلام مولانا سید وفا حیدر سریا، بہار؛ حجۃ الاسلام مولانا سید عترت حسین ندیم، امام جمعہ کمرہ محلہ مظفرپور؛ اور معروف محقق، مصنف و مبلغ حجۃ الاسلام مولانا ابن حسن املوی واعظ، بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املو، مبارکپور نے مختصر خطابات کیے۔

حجۃ الاسلام مولانا سید اسد رضا رضوی گوپال پوری، سابق پرنسپل مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ نے نمائندہ ولی فقیہ اور دیگر مہمانوں و شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ حجۃ الاسلام مولانا سید امانت حسین رضوی گوپالپوری، سابق پرنسپل مدرسہ سلیمانیہ نے سپاس نامہ پیش کیا۔

نماز ظہرین نمائندہ ولی فقیہ ڈاکٹر حکیم الٰہی کی اقتدا میں باجماعت ادا کی گئی، جس کے بعد پروگرام کی دوسری نشست منعقد ہوئی۔ اس نشست میں رسول احمد نے نعت پیش کی، جبکہ حجۃ الاسلام مولانا سید فرید الحسن، پرنسپل جامعہ ناظمیہ لکھنؤ؛ سید ارشاد علی آزاد، چیئرمین شیعہ وقف بورڈ بہار؛ اور حجۃ الاسلام مولانا سید تقی حیدر، ایران کلچر ہاؤس دہلی نے اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی نظامت حجۃ الاسلام مولانا سید تہذیب الحسن، امام جمعہ رانچی، جھارکھنڈ نے انجام دی۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کا اجراء اور ڈاکیومینٹری کی نمائش

سمپوزیم کی ایک اہم خصوصیت معروف محقق و مصنف حجۃ الاسلام مولانا ابن حسن املوی واعظ کی تالیف کردہ ضخیم اور دیدہ زیب کتاب ’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کا اجراء تھا۔ یہ کتاب مرکز بین المللی نور مائیکروفلم، ایران کلچر ہاؤس، نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اور دیگر علماء و دانشوروں نے مشترکہ طور پر کتاب کی رونمائی کی۔

اس موقع پر انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر، ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی کی جانب سے حافظ سید فرمان علی کی زندگی اور علمی خدمات پر تیار کردہ جدید تکنیک سے آراستہ ڈاکیومینٹری فلم بھی بڑی اسکرین پر دکھائی گئی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

قرآن کریم کا پیغام کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے تک محدود نہیں، یہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے: ڈاکٹر حکیم الٰہی

علماء اور دینی طلباء کی خصوصی نشست

پروگرام کے اختتام پر مدرسہ سلیمانیہ کی لائبریری ہال میں بہار کے علماء و خطبائے امامیہ کی ایک خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر حکیم الٰہی نے علماء، دینی فضلاء اور طلباء کو ان کے علمی، دینی اور سماجی فرائض و ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم نصائح اور ہدایات پیش کیں۔

مجموعی طور پر یہ سمپوزیم حافظ مولانا فرمان علی کی علمی و دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے، مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی علمی تاریخ کو محفوظ کرنے اور قرآن کریم کے پیغام کو عام کرنے کے حوالے سے ایک کامیاب اور یادگار پروگرام ثابت ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha